سلیم کوثر

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سرِ آئینہ میرا عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے

سلیم کوثر

میں کسی کے دستِ طلب میں ہوں تو کسی کے حرفِ دُعا میں ہوں

میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

سلیم کوثر

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا اُنہیں غور سے

جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

سلیم کوثر

Leave a Comment

Your email address will not be published.