منتخب اشعار

 

لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو 

زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا 

شکیب جلالی

 

 

 

کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے 

سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے 

شکیب جلالی

 

 

 

یوں تو سارا چمن ہمارا ہے 

پھول جتنے بھی ہیں پرائے ہیں 

شکیب جلالی

 

 

 

مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں 

جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے 

شکیب جلالی

 

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے 

مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے

شکیب جلالی

 

 

ملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے 

چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر 

شکیب جلالی

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.