ہمزاد سے مکالمہ(۲) محنت اور تقدیر

ہمزاد سے مکالمہ(۲) محنت اور تقدیر

ہمزاد سے میرا کبھی کبھار مکالمہ ہونے لگا تھا۔ اور چند ہی ملاقاتوں میں کافی بے تکلفی ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ گفتگو کے دوران کچھ باتوں میں، مجھے وہ اپنا ہی پرتو لگتا۔
ایک رات میں کچھ سوالوں کی زد میں تھا کہ کسی شخص کو کامیاب زندگی کےلئے کتنی محنت درکار ہوتی ہے؟ کیا آ دمی صرف محنت کے بل بوتے پر کامیاب ہو سکتا ہے؟ اور اگر صرف محنت ہی سب کچھ ہے تو پھر تقدیر کیا چیز ہے؟

اسی محشرِخیال میں اک ہنگامہ برپا تھا۔ میں کبھی محنت اور کبھی تقدیر کے حق میں فیصلہ دیتا۔ یہ کشمکش جاری تھی کہ ہمزاد نے اچانک بے تکلف لہجے میں کہا ” او میاں! کامیابی کےلئے صرف محنت کافی نہیں، درست سمت میں محنت ضروری ہے اور ہاں! تسلسل کے ساتھ بھی۔” تقدیر کے حوالے سے موصوف نے فرمایا ” صحیح وقت پر درست فیصلہ ہی تقدیر ہے۔ اور باقی سب عقل کے سراب ہیں جو تم نے بیرونی دنیا سے اخذ کئے ہیں۔”

۔

 

 

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں

 

 

 

جواباً میں نے کہا جناب! فیصلے تو معروضی حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ میری عقلِ سلیم مجھے جو رستہ سجھاتی ہے، میں وہی فیصلہ کرتا ہوں۔ ہمزاد نے تبسم کرتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں کہا” تمہاری عقلِ سلیم! جس نے مادی نفع و نقصان کے علاوہ کبھی بھی تمہارے اخلاقی اور شخصیتی توڑپھوڑکے خساروں کو شمار ہی نہیں کیا۔” اس کے بعد وہ تھوڑی دیر کےلئے خاموش ہو گیا اور پھر ذرا سخت لہجے میں بولا ” جناب عالی! حالات کے تابع رہ کر فیصلہ کرنے والے ہمیشہ حالات کے تابع ہی رہتے ہیں۔ فیصلے صحیح اور غلط کی بنیاد پرہوتے ہیں، حالات کے تابع رہ کر صرف سمجھوتے ہوتے ہیں۔”

میں نے کہا تو پھر مصلحت کیا چیز ہے؟ اُس نے جواب دیا ” مصلحت صبر کے ساتھ صحیح وقت کی تلاش ہوتی ہے جو درست فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ حالات کے تابع رہ کر غلط فیصلہ کرنے کا عندیہ نہیں ہوتی۔” میں نے کہا تمہیں عملی زندگی کےمسائل سے کوئی واسطہ نہیں اس لئے تم ایسی کتابی باتیں کرتے ہو۔ ہمزاد بولا ” تم اپنی غلطیوں کے حق میں دلیلِ ناحق تلاش کرتے ہو۔”

میں نے کہا تم خواہ مخواہ مجھے موردِ الزام ٹھہرا رہے ہو۔ تم اگر میری جگہ ہوتے تو تمہیں میرے حال کا علم ہوتا۔ اُس نے ایک مرتبہ پھر مجھے یاد دلایا کہ میں اسے خود سے جُدا نہ سمجھوں۔ اور افسردہ لہجے میں گویا ہوا ” میاں! تم نے گزرتے وقت کے ساتھ خود نمائی، خود پسندی اور منافقت کی اتنی ملمع کاری کر لی ہے کہ تمہیں اپنا اصل چہرہ یاد ہی نہیں رہا۔ تم اگر یہ تہ در تہ ماسک اپنے چہرے سے اتار پھینکو تو پھر تمہیں مجھ میں اور خود میں کوئی فرق نظر نہ آئے۔ یہ مسائل و مصائب اسی دو رنگی کا حاصل ہیں۔ جس نے تمہیں دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔”

اسی تکرار میں میری آنکھ لگ گئی۔ اور پھر صبح کی پہلی آواز میرے کان میں پڑی۔ کیا آپ نے آج کام پر نہیں جانا؟ اٹھ جائیے! دیر ہو رہی ہے

 

 

آپ کی رائے۔
۔ اگر ہم صحیح وقت پردرست فیصلہ نہ کریں تو ہمارا یہ حق ساقط ہو کر دوسروں کے پاس چلا جاتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
۔ آپ کی مصلحت، صبر،محنت اور تقدیر کے بارے میں کیا رائے ہے؟

.جاری ہے

13 thoughts on “

ہمزاد سے مکالمہ(۲) محنت اور تقدیر

  1. انسا ن کو اگر اپنی پہچان صحیح وقت پر ہو جائےاور صحیح وقت پر اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرے تو کامیاب ورنہ
    میں کرتا رہا اوروں کی کہی
    میری بات میرے
    من میں ہی رہی
    اور شاید یہ ہی مصلحت ہے۔
    یا
    پھر مصلحت یہ ہو سکتی ہے
    میں زندگئ کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
    ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
    غم اور خوشی کا فرق نہ محسوس ہو جہاں
    میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
    اور کامیابی کے بارے میں مولانا حالی نے کچھ یوں لکھا تھا
    بہت ہم تم میں جوہر ہیں مخفی
    اگر جیتے جی نہ ان کی خبر لی
    تو ہو جائیں گے مل کے مٹی میں مٹی

      1. مالی دا کم پانی لانا تے بھر بھر مشکاں پاوے
        مالک دا کم پھل پھُل لانا لاوے یا نہ لاوے
        یہ ہی تقدیر ھے

  2. Excellent Sabri sb….
    Kuch sawalat apkay article ko parh kr meray zehan main ae hain k kaisay pta chalay k jo faisla ap kr rahay hain wo durust ha ya ghalat? Or kia her insan ke quwat e faisla aik jaisi hoti? Agar nhi to kia awamil hain jo uski quwat e faisla pr asar andaz ho saktay hain?

    1. زاد سے مکالمہ قاری کو اپنے دروں میں جھانکنے پر اکساتا ہے اور بے ترتیب میں ترتیب کی کھوج پر اکساتا ہے۔

  3. بہت اچھے جناب ۔بحث کے لیے موضوع غور و فکر ما نگتا ہے۔ صدیوں سے صاحبان عقل اس گتھی کو سلجھانے کی کوشس کر رہے ہیں۔ کامیاب لوگوں کے نذدیک محنت اہم ہے۔ناکام لوگ تقدیر کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے لیے جواز ڑھونڈتے ہیں ۔تجسس کی رفتار بڑھ رہی ہے۔

  4. is tahreer nai hamin btaya k hamzad ki direction drust hu tu wohi taqdeer ku acha bna dyti hai
    taqdeer hameesha drust faisla krwati hai aur wo faisala hi taqdeer hai. drust simat main mehnat kabi zaya nahi hoti kiun k adami k liy wohi hai jitna k wo koshish kry

Leave a Comment

Your email address will not be published.